MOJ E SUKHAN

الفت ہی نہ کی ہوتی نہ دل سے گئے ہوتے

غزل

الفت ہی نہ کی ہوتی نہ دل سے گئے ہوتے
ہوتا نہ وہ ہرجائی دکھ یہ نہ سہے ہوتے
کس آس پہ ہر لمحہ تجدید وفا کی ہے
اے کاش جفاؤں میں ہم تم پہ گئے ہوتے
ان نام کے رشتوں میں گر بوئے وفا ہوتی
روشن مرے آنگن میں الفت کے دیئے ہوتے
کچھ دیر کی ہمراہی پھر راہ بدل لینا
اے کاش کہ دنیا میں تنہا ہی رہے ہوتے
مانا کہ جدائی تو قسمت میں لکھی لیکن
کچھ روز تو اے جاناں تم ساتھ رہے ہوتے
آنکھوں سے بہے سارے یہ زخم مرے دل کے
کھل کے نہ اگر روتے ، تب جاں سے گئے ہوتے
صوفیہ حامد خان
Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم