MOJ E SUKHAN

ان آنکھوں کا مجھ سے کوئی وعدہ تو نہیں ہے

غزل

ان آنکھوں کا مجھ سے کوئی وعدہ تو نہیں ہے
تھوڑی سی محبت ہے زیادہ تو نہیں ہے

اسلوب نظر سے مرا مفہوم نہ سمجھے
وہ یار مرا اتنا بھی سادہ تو نہیں ہے

آغاز جو کی میں نے نئی ایک محبت
یہ پچھلی محبت کا اعادہ تو نہیں ہے

سینے میں بجھا جاتا ہے دل میرا سر شام
اس غم کا علاج آتش بادہ تو نہیں ہے

پھر سے تری آنکھوں میں سوا رنگ محبت
پھر ترک محبت کا ارادہ تو نہیں ہے

پرواز کے سب خواب یہیں رکھے ہیں میں نے
گو کنج قفس اتنا کشادہ تو نہیں ہے

خانوں میں بھٹکتا نظر آیا مجھے انسان
شطرنج زمانہ کا پیادہ تو نہیں ہے

جاتے ہیں کہیں اور پہنچتے ہیں کہیں اور
اک اور بھی جادہ پس جادہ تو نہیں ہے

سید فراست رضوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم