loader image

MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

20/04/2025 09:35

انتشار و خوف ہر اک سر میں ہے

غزل

انتشار و خوف ہر اک سر میں ہے
عافیت سے کون اپنے گھر میں ہے

زندگی پر سب حقیقت کھل چکی
تو ابھی تک خواب کے پیکر میں ہے

مطمئن انساں کہیں پر بھی نہیں
ایک سی حالت زمانے بھر میں ہے

رات کی چٹان سے صبحیں تراش
خواب کی تعبیر اسی پتھر میں ہے

جھوٹ کی بن آئی ہے چاروں طرف
سچ اگر ہے بھی تو پس منظر میں ہے

برف احساسات کی پگھلا سکے
وہ شرر ماضی کی خاکستر میں ہے

ٹوٹ جانے تک اڑیں گے ہم نیازؔ
حوصلہ اتنا تو بال و پر میں ہے

عبدالمتین نیاز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات

نظم