غزل
اندھیری رات نفس کے دیے جلائے ہیں
بنانے والوں نے خورشید تک بنائے ہیں
بس اس سے پہلے کہ دریائے خوں میں جا ڈوبیں
ہیں خوش نصیب پسینے میں جو نہائے ہیں
ہر ایک حسن و لطافت کی انتہا ہے حیات
گل و شراب و بہشت و صنم کنائے ہیں
میں جاگتا ہوں کہ سوتا ہوں خواب دیکھتا ہوں
زمین تپتی ہے کچھ بادلوں کے سائے ہیں
سنور گئے ہیں جنہوں نے جہاں سنوارا ہے
چمک رہے ہیں وہ چہرے کہ گل کھلائے ہیں
اسی کی بانگ پہ بیدار ہو کے ذبح کیا
نوائے مرغ نے کیا کیا اثر دکھائے ہیں
کسی حقیر سے شیشے کو بھی نہ ٹھیس لگے
اس احتیاط پہ بھی کتنے دل دکھائے ہیں
سعید الظفر چغتائی