Awal Awal ka sabq Prh y abaq main gum hay
غزل
اوّل اوّل کا سبق پڑھ کے سبق میں گم ہے
دل پہ بن آئی تو دل اپنی رمق میں گم ہے
چاند تو چھت پہ اتر آیا ہےلیکن اب تک
چاند کا تارا بہت دور اُفق میں گم ہے
اور کچھ دیر میں سورج کو دہائی دینا
شام کا سایہ ابھی رنگِ شفق میں گم ہے
اِن ہواؤں سے اندھیروں کا گلہ مت کرنا
روشنی آج چراغوں کے قلق میں گم ہے
خار کی نوک پہ شبنم کا ہے قطرہ لیکن
دامنِ گل کا گریباں تو عرق میں گم ہے
جرم بس مجھ پہ ہی ٹھہرا اُسے کچھ بھی نہ ہوا
میرا منصف مرے قاتل کے ہی حق میں گم ہے
اُسکو خود داری کا احساس کہاں سے ہوگا
بے حِسی اوڑھ کے جو اپنے طبق میں گم ہے
ہے یہ آسان زباں لہجہ بھی ہے نرم مگر
ایک عالم مرے اشعارِ ادق میں گم ہے
جو ورق چھوُ کے کہا اُس نے "ضیا” یہ کیا ہے
کُل بیاض اپنی اُسی ایک ورق میں گم ہے –
سید محمد ضیا علوی
Syed Mohammad Zia Alvi