MOJ E SUKHAN

اپنی حالت پہ آنسو بہانے لگے

غزل

اپنی حالت پہ آنسو بہانے لگے
سرد راتوں میں خود کو جگانے لگے

سرخ تاروں کے ہم راہ کر کے سفر
خواب زاروں سے کیوں آگے جانے لگے

دور بجنے لگی ہے کہیں بانسری
ہم بھی زندان میں گیت گانے لگے

جو بصارت بصیرت سے محروم ہیں
شہر کے آئنوں کو سجانے لگے

ہم نے جب حال دل ان سے اپنا کہا
وہ بھی قصہ کسی کا سنانے لگے

نیستی کا ستم کوئی کم تھا جو تم
اپنی ہستی کا دکھ بھی منانے لگے

جب بجھی میری آنکھوں کی لو عاصمہؔ
تیرہ منظر بھی جلوہ دکھانے لگے

عاصمہ طاہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم