MOJ E SUKHAN

اڑتے ہیں گرتے ہیں پھر سے اڑتے ہیں

غزل

اڑتے ہیں گرتے ہیں پھر سے اڑتے ہیں
اڑنے والے اڑتے اڑتے اڑتے ہیں

کوئی اس بوڑھے پیپل سے کہہ آؤ
پنجرے میں ہم خوب مزے سے اڑتے ہیں

ہائے وہ چڑیا اڑ مینا اڑ کے جھگڑے
اور پھر ثابت کرنا بکرے اڑتے ہیں

پنجرے میں دانا پانی سب رکھا ہے
اور پرندے بھوکے پیاسے اڑتے ہیں

دیکھ رہے ہیں ہم بھی جوانی کے موسم
بند ہوا میں کیسے دوپٹے اڑتے ہیں

اس طوطے کا پنجرا کھولو پھر دیکھو
کیسے اس طوطے کے طوطے اڑتے ہیں

چراغ شرما

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم