MOJ E SUKHAN

اک تبسم سے ہم نے روک لیے

غزل

اک تبسم سے ہم نے روک لیے
وار جتنے غم جہاں نے کیے

کہہ رہے ہیں ہوا سے راز چمن
کوئی غنچوں کے بھی تو ہونٹ سیے

کیف کیا چیز ہے خمار ہے کیا
یہ سمجھ کر شراب کون پیے

ختم جب ہو گئیں تمنائیں
ہم نئے حوصلوں کے ساتھ جیے

رخ ہوا کا بدل گیا شاید
گھر کے باہر بھی جل رہے ہیں دیے

پھول خود ہو گئے گریباں چاک
موسم گل کے چاک کون سیے

اپنے دل پر سجا لیے شاعرؔ
زخم ہم کو جو اس نظر نے دیے

شاعر لکھنؤئ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم