MOJ E SUKHAN

اک وظیفہ ہے کسی درد کا دہرایا ہوا

غزل

اک وظیفہ ہے کسی درد کا دہرایا ہوا
جس کی زد میں ہے پہاڑوں کا دھواں آیا ہوا

یہ ترے عشق کی میقات یہ ہونی کی ادا
دھوپ کے شیشے میں اک خواب سا پھیلایا ہوا

باندھ لیتے ہیں گرہ میں اسی منظر کی دھنک
ہم نے مہمان کو کچھ دیر ہے ٹھہرایا ہوا

طائرو ابر و ہوا بھی ہیں اسی الجھن میں
کیسے دو ہونٹوں نے اک باغ ہے دہکایا ہوا

چھید ہیں عمر کی پوشاک پہ تنہائی کے
خوش نما قریوں میں ہوں آپ سے اکتایا ہوا

رات آتی ہے تو رکھ دیتی ہے پھاہا دل پر
ورنہ اس دشت کا ہر پیڑ ہے زخمایا ہوا

ہڈیاں جوڑ کے ترتیب سے اس نے عامرؔ
خواب کا لٹھا ہے اس روح کو پہنایا ہوا

عامر سہیل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم