MOJ E SUKHAN

اگر وہ مل کے بچھڑنے کا حوصلہ رکھتا

اگر وہ مل کے بچھڑنے کا حوصلہ رکھتا
تو درمیاں نہ مقدر کا فیصلہ رکھتا

وہ مجھ کو بھول چکا اب یقین ہے ورنہ
وفا نہیں تو جفاؤں کا سلسلہ رکھتا

بھٹک رہے ہیں مسافر تو راستے گم ہیں
اندھیری رات میں دیپک کوئی جلا رکھتا

مہک مہک کے بکھرتی ہیں اس کے آنگن میں
وہ اپنے گھر کا دریچہ اگر کھلا رکھتا

اگر وہ چاند کی بستی کا رہنے والا تھا
تو اپنے ساتھ ستاروں کا قافلہ رکھتا

جسے خبر نہیں خود اپنی ذات کی زریںؔ
وہ دوسروں کا بھلا کس طرح پتا رکھتا

عفت زرین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم