MOJ E SUKHAN

ایسے کی محبت کو محبت نہ کہیں گے

غزل

ایسے کی محبت کو محبت نہ کہیں گے
اس عام عنایت کو عنایت نہ کہیں گے

کہئے تو کہوں انجمن غیر کو روداد
کیا اب بھی اسے آپ کرامت نہ کہیں گے

سمجھیں گے نہ اغیار کو اغیار کہاں تک
کب تک وہ محبت کو محبت نہ کہیں گے

جب عربدہ جو تم ہو تو کیوں صبر سمیٹیں
ہم اس میں رقیبوں کی شرارت نہ کہیں گے

ہے یاد ظہیرؔ ان کا شب وصل بگڑنا
وہ تلخیٔ دشنام کی لذت نہ کہیں گے

ظہیر دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم