MOJ E SUKHAN

بادشاہت گری ہنر ہی سہی

بادشاہت گری ہنر ہی سہی
تم کو اس کی بھلے خبر ہی سہی

لوٹ جائے تو مان جاؤں گی
مجھ پہ ڈالو تو اک نظر ہی سہی

کیسے ممکن ہے دل گلہ نا کرے
چاہے رہ جائے بے ثمر ہی سہی

میری آنکھوں سے پڑھ نہ پائے گا
لاکھ کھونے کا دل میں ڈر ہی سہی

اس کے دل میں مکان کرلے گی
میری خواہش بے بال و پر ہی سہی

پھر بھی شکوہ ضرور کرنا ہے
میری ہر آہ بے اثر ہی سہی

کچھ تو تدبیر ہو ملن کی کرن
پھر بھی درپیش اک سفر ہی سہی

کرن رباب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم