MOJ E SUKHAN

بالکونی میں ہی مہتاب ہوا کرتا تھا

غزل

بالکونی میں ہی مہتاب ہوا کرتا تھا
اپنا جب حلقہ ء احباب ہوا کرتا تھا

چشمِ دنیا کی دلآویز محبت کے طفیل
روزِ روشن کی طرح خواب ہوا کرتا تھا

تیری آنکھوں سے گرا ہوں تو مجھے علم ہوا
دشت میں کونسا سیلاب ہوا کرتا تھا

اب جہاں خون کی ندیاں ہیں رواں شہر بہ شہر
پہلے اس شہر میں تالاب ہوا کرتا تھا

دل مرا روزنِ شب میں بھی مرے دوست ندیم
دیکھ کر آپ کو بیتاب ہوا کرتا تھا

ندیم ملک

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم