MOJ E SUKHAN

بر طرف کر کے تکلف اک طرف ہو جائیے

بر طرف کر کے تکلف اک طرف ہو جائیے
مستقل مل جائیے یا مستقل کھو جائیے

کیا گلے شکوے کہ کس نے کس کی دل داری نہ کی
فیصلہ کر ہی لیا ہے آپ نے تو جائیے

میری پلکیں بھی بہت بوجھل ہیں گہری نیند سے
رات کافی ہو چکی ہے آپ بھی سو جائیے

آپ سے اب کیا چھپانا آپ کوئی غیر ہیں
ہو چکا ہوں میں کسی کا آپ بھی ہو جائیے

موت کی آغوش میں گریہ کناں ہے زندگی
آئیے دو چار آنسو آپ بھی رو جائیے

شاعری کار جنوں ہے آپ کے بس کی نہیں
وقت پر بستر سے اٹھئے وقت پر سو جائیے

جاوید صبا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم