MOJ E SUKHAN

برداشت کیوں کرے گا ذرا سی بھی دیر دل

غزل

برداشت کیوں کرے گا ذرا سی بھی دیر دل
پھیری نظر تو روئے گا منہ پھیر پھیر دل

محسوس یہ ہوا ہے تری آنکھ کے طفیل
آئینہ ہے چراغ ہے مٹی کا ڈھیر دل

شاید تری طرف سے ہو آغاز دل بری
کم بخت اس لیے بھی تو کرتا ہے دیر دل

ذکر وفا جو آئے تو ہر بات پر ترا
کرتا ہے میرے دل سے بہت ہیر پھیر دل

ہم سے ملیں تو دل کو سنبھالا کریں جناب
ہم لوگ بات چیت سے کرتے ہیں زیر دل

‏‎دل داریوں کے دام میں بالکل نہ آئے گی
ہے سامنے جناب کے سچ مچ میں شیر دل

راشدہ ماہین ملک

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم