Bus Aik Main Thee koi doosra no tha mry sath
غزل
بس ایک میں تھی کوئ دوسرا نہ تھا مرے ساتھ
پھر اس نے ہاتھ بڑھایا , کہا کہ آ مرے ساتھ
وہ ایک , آدھی گواہی بھی کب سنی گئی تھی
کوئی نہ بولا تو بولا مرا خدا مرے ساتھ
انہیں خبر تھی کہ میں ہجر زاد پنچھی ہوں
شجر سے کوئی پرندہ نہیں اڑا مرے ساتھ
میں اس کو تازہ زمانوں کی دھول سمجھی تھی
یہ سازشوں کا دھواں پھیلتا رہا مرے ساتھ
کوئی تو ہوتا جو کرتا مری مسیحائی
کوئی تو ہوتا جو یہ ہجر تاپتا مر ے ساتھ
میں کہہ رہی تھی ” محبت نے چن لیا مجھ کو ”
وہ کہہ رہا تھا ” یہ بے حد برا ہوا مرے ساتھ ” ….
فرح گوندل
Farah Gondal