بستی نظم
کھلی آنکھوں سے دنیا کا تماشا دیکھتے رہنا
زباں سے کچھ نہیں کہنا
طواف رائیگاں کی عادتیں بھی اب پرانی ہیں
یقیں آثار گھڑیاں بھی تصرف میں نہیں میرے
انہی آنکھوں کے اک گوشے میں ست رنگے سہانے خواب رکھے ہیں
کہیں آدھی رفاقت کی کسک نے گھر بنایا ہے
کہیں تکمیل کی خواہش
کسی سنگ گراں کے عکس کی صورت مجھے بے چپن رکھتی ہے
کہیں رنج و الم کے زرد لمحے کسمسا کر بیٹھ رہتے ہیں
یہاں خوں بار منظر بھی کئی برسوں سے ٹھہرے ہیں
یہ آنکھیں ہیں کہ کوئی خانماں برباد بستی ہے
میں اب ان کی حفاظت کر نہیں سکتی
سو میں نے اپنی آنکھیں آج نیلامی میں رکھ دی ہیں
حجاب عباسی