MOJ E SUKHAN

بنتی نہیں بات تو پھر بات کیا کریں

غزل

بنتی نہیں بات تو پھر بات کیا کریں
بگڑے ہوئے ہیں شہر کے حالات کیا کریں

آتی نہیں گرفت میں سانسوں کی ڈوریاں
ہیں گردش مدام میں دن رات کیا کریں

لفظوں کی ایک فوج ہے اپنی کمان میں
منہ میں نہیں زباں تو مقالات کیا کریں

ٹوٹا تعلقات کا ہر ایک سلسلہ
ٹھنڈے پڑے ہیں وصل کے جذبات کیا کریں

اے دوست چارہ سازیٔ چارہ گراں نہ پوچھ
بد تر ہوئے ہیں اور بھی حالات کیا کریں

عیش و طرب کی محفلیں ان کا نصیب ہیں
ہم کو ملے ہیں درد کے نغمات کیا کریں

بخش لائلپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم