MOJ E SUKHAN

بند ہتھیلی میں ہیں سب

بند ہتھیلی میں ہیں سب
جنگل ویرانے اور شب

دریا اتر گیا تو کیا
نیا ڈوب گئی ہے اب

پلکیں نم تھیں اور کوئی
میرے سنگ نہ رویا تب

لوگ مجھے پاگل کہتے
سچ کے موتی چنتی جب

جیون مجھ سے روٹھ گیا
بیناؔ دستک دی تو کب

بینا گوئندی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم