MOJ E SUKHAN

بڑھا تنہائی میں احساس غم آہستہ آہستہ

بڑھا تنہائی میں احساس غم آہستہ آہستہ
ہمیں یاد آئے سب اہل کرم آہستہ آہستہ

دل مضطر کی بیتابی کا عالم کیسا عالم ہے
کھنچا جاتا ہے دل سوئے صنم آہستہ آہستہ

چلا ہوں منزل جاناں میں کچھ ایسے تأثر سے
نظر شرمندہ شرمندہ قدم آہستہ آہستہ

نگاہ لطف کس کی ہو گئی میرے مقدر پر
یہ کس کا ہو گیا حسن‌ کرم آہستہ آہستہ

محبت کرنے کا ہم کو صلہ اچھا ملا اے دل
سمٹ آئے مرے دامن میں غم آہستہ آہستہ

حقیقت میں اگر پوچھو بہاران گلستاں کا
چمن والوں نے توڑا ہے بھرم آہستہ آہستہ

کہاں تک ضبط کرتے بزم کی کوتاہ‌‌ بینی کو
مبینؔ اٹھنا پڑا با چشم نم آہستہ آہستہ

سید مبین علوی خیرآبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم