MOJ E SUKHAN

بہت بھرم بڑی خوش قسمتی سمجھتے تھے

Bohat Bharam Bari Khush qismati Samjhty Hain

غزل

بہت بھرم بڑی خوش قسمتی سمجھتے تھے
ہم اس سے اپنی بہت دوستی سمجھتے تھے

انہوں نے دیکھی نہیں بولتی ہوئی آنکھیں
خموش رہنےکو جو خاموشی سمجھتے تھے

عجیب رسم اسیری تھی کج کلا ہوں میں
کہ چوڑیوں کو بھی وہ ہتھکڑی سمجھتے تھے

مقابلے میں جنہیں ڈر تھا ہار جانے کا
وہ آشنا بھی ہمیں اجنبی سمجھتے تھے

وہ جانتے ہی نہ تھے فرق دشت اور دریا
جو تھوڑی پیاس کو بھی تشنگی سمجھتے تھے

تمھارے غم کا اندھیرا بھی تھا عزیز ہمیں
ہم اس اندھیرے کو بھی روشنی سمجھتے تھے

ریحانہ روحی

Rehana Roohi

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم