MOJ E SUKHAN

بہت رونے سے دل کا بوجھ ہلکا ہو گیا آخر

غزل

بہت رونے سے دل کا بوجھ ہلکا ہو گیا آخر
جو یادوں کے جھروکوں کو بھی شاید دھو گیا آخر

نہ ماتم ہے نہ سناٹا عجب سرگوشیاں سی ہیں
مری چوکھٹ پہ سر رکھ کر وہ لڑکا سو گیا آخر

میں خود اشکوں کے دریاؤں کی پہنائی کا حاصل تھا
مگر وہ ایک قطرہ بار ہستی دھو گیا آخر

مجھے بھیگی ہوئی آنکھوں میں رہنے کا سلیقہ ہے
میں گیلے کاغذوں میں لفظ سارے بو گیا آخر

وہ رستہ جو تری تربت سے ہو کر مجھ تلک آیا
وہ رستہ وقت کی پہنائیوں میں کھو گیا آخر

متینؔ اقبال آنکھیں پونچھ لو تکیہ چھپا رکھو
وہ دیکھو اپنے آنگن میں سویرا ہو گیا آخر

اقبال متین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم