MOJ E SUKHAN

بہت سکوں مجھے اغیار کی طرف سے ہے

بہت سکوں مجھے اغیار کی طرف سے ہے
مگر یہ چھاؤں بھی دیوار کی طرف سے ہے

تمام زخم میں پتّوں سے ڈھانپ سکتا ہوں
یہ پیش کش مجھے اشجار کی طرف سے ہے

نہ کوئی رنگ نہ خوشبو نہ تازگی صاحب
یہ پھول کیا کسی بیمار کی طرف سے ہے

تمام عمر لگا کر رکھوں گا سینے سے
یہ تیر میرے کسی یار کی طرف سے ہے

کسی کو اپنے فوائد نہیں بتاتا میں
مطالبہ یہ خریدار کی طرف سے ہے

رمزی آثم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم