MOJ E SUKHAN

بیٹے کو سزا دے کے عجب حال ہوا ہے

بیٹے کو سزا دے کے عجب حال ہوا ہے
دل پہروں مرا کرب کے دوزخ میں جلا ہے

عورت کو سمجھتا تھا جو مردوں کا کھلونا
اس شخص کو داماد بھی ویسا ہی ملا ہے

ہر اہل ہوس جیب میں بھر لایا ہے پتھر
ہمسائے کی بیری پہ ابھی بور پڑا ہے

اب تک مرے اعصاب پہ محنت ہے مسلط
اب تک مرے کانوں میں مشینوں کی صدا ہے

اے رات مجھے ماں کی طرح گود میں لے لے
دن بھر کی مشقت سے بدن ٹوٹ رہا ہے

شاید میں غلط دور میں اترا ہوں زمیں پر
ہر شخص تحیر سے مجھے دیکھ رہا ہے

تنویر سپرا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم