MOJ E SUKHAN

بے تعلق روح کا جب جسم سے رشتہ ہوا

غزل

بے تعلق روح کا جب جسم سے رشتہ ہوا
گھر میں لا وارث پس منظر کا سناٹا ہوا

دھوپ لہجے میں نوکیلاپن کہاں سے لائے گی
ہم نے دیکھا ہے شفق سورج ابھی بجھتا ہوا

چاہتا ہے دل کسی سے راز کی باتیں کرے
پھول آدھی رات کا آنگن میں ہے مہکا ہوا

سرخ موسم کی کہانی تو پرانی ہو گئی
کھل گیا موسم تو سارے شہر میں چرچا ہوا

آسماں زہراب منظر گمشدہ بیزاریاں
لمس تنہائی کا لگتا ہے مجھے ڈستا ہوا

ہر طرف روتی ہوئی خاموشیوں کا شور ہے
دیکھنا یہ میری بستی میں اچانک کیا ہوا

جسم میرا جاگتا ہے دونوں آنکھیں بند ہیں
اور سناٹا ہے میری روح تک اترا ہوا

عافیت گر چاہتے ہو رندؔ واپس گھر چلو
اب تماشا گاہ کا منظر ہے کچھ بگڑا ہوا

پی پی سری واستو رند

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم