MOJ E SUKHAN

تجھ سے بچھڑ کے یوں تو بہت جی اداس ہے

تجھ سے بچھڑ کے یوں تو بہت جی اداس ہے
لیکن یہ لگ رہا ہے کہ تو میرے پاس ہے

دریا دکھائی دیتا ہے ہر ایک ریگ زار
شاید کہ ان دنوں مجھے شدت کی پیاس ہے

حیرت سے سب کو تکتے ہیں پتھر بنے ہوئے
جادوگروں کے شہر میں اپنا نواس ہے

تم کو سنا رہا ہے لطیفے جو رات دن
وہ آدمی تو تم سے زیادہ اداس ہے

ویراں ہے میرا گھر بھی اسی طرح دوستو
کالج میں جس طرح کوئی اردو کلاس ہے

پوچھو کوئی سوال ملے گا غلط جواب
والیؔ ہر ایک شخص یہاں بد حواس ہے

والی آسی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم