MOJ E SUKHAN

تجھے مجھ سے مجھ کو تجھ سے جو بہت ہی پیار ہوتا

تجھے مجھ سے مجھ کو تجھ سے جو بہت ہی پیار ہوتا
نہ تجھے قرار ہوتا نہ مجھے قرار ہوتا

ترا ہر مرض الجھتا مری جان ناتواں سے
جو تجھے زکام ہوتا تو مجھے بخار ہوتا

جو میں تجھ کو یاد کرتا تجھے چھینکنا بھی پڑتا
مرے ساتھ بھی یقیناً یہی بار بار ہوتا

کسی چوک میں لگاتے کوئی چوڑیوں کا کھوکھا
ترے شہر میں بھی اپنا کوئی کاروبار ہوتا

غم و رنج عاشقانہ نہیں کیلکولیٹرانہ
اسے میں شمار کرتا جو نہ بے شمار ہوتا

وہاں زیر بحث آتے خط و خال و خوئے خوباں
غم عشق پر جو انورؔ کوئی سیمینار ہوتا

انور مسعود

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم