MOJ E SUKHAN

تجھے کون جانتا تھا مری دوستی سے پہلے

غزل

تجھے کون جانتا تھا مری دوستی سے پہلے
ترا حسن کچھ نہیں تھا مری شاعری سے پہلے

ادھر آ رقیب میرے میں تجھے گلے لگا لوں
مرا عشق بے مزا تھا تری دشمنی سے پہلے

کئی انقلاب آئے کئی خوش خرام گزرے
نہ اٹھی مگر قیامت تری کم سنی سے پہلے

مری صبح کے ستارے تجھے ڈھونڈتی ہیں آنکھیں
کہیں رات ڈس نہ جائے تری روشنی سے پہلے

یہ جو زندگی گزاری سرِ بزم کیف ہم نے

یہ عجیب زندگی تھی تری عاشقی سے پہلے

 

کیف بھوپالی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم