MOJ E SUKHAN

تلخئ غم کا جو ہے مکمل جواب لا

تلخئ غم کا جو ہے مکمل جواب لا
یعنی شراب لا مرے ساقی شراب لا

مٹ جائیں جس سے گردش دوراں کی تلخیاں
وہ جام خوش گوار ملا کر گلاب لا

وہ مے کہ جس سے ہر غم و اندوہ و یاس کا
ہو جائے حشر تک کے لیے سد باب لا

پی کس قدر پیوں گا ابھی کس قدر نہ پوچھ
دے پہلے اس کا بعد کو لینا حساب لا

کالی گھٹا کی تجھ کو قسم جان مے کدہ
تاخیر کر نہ بہر خدا لا شتاب لا

وہ دیکھ سر پہ چادر رحمت ہے ضو فگن
چھائی ہے مے کدہ پہ ردائے سحاب لا

راز حیات و موت کا عقدہ جو کھول دے
مل جائے جس سے خواب میں تعبیر خواب لا

ایسی نہ ہو کہ پی کے بنوں اور متہم
باطل شکن ہو جو وہ حقیقت مآب لا

ساقی غرض یہ تجھ سے گزارش ہے برقؔ کی
آنکھوں سے جو اٹھا دے دوئی کا حجاب لا

رحمت الہی برقی اعظمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم