تم تمنّا ہو اور ضرورت بھی
تم محبّت بھی ہو عبادت بھی
آئینہ دیکھنا بھی مشکل ہے
کیا عجب چیز ہے محبت بھی
عشق ہے جھوٹ اِک زمانے کا
اور سب سے بڑی حقیقت بھی
ماں کے گھر رہ گئی انا اور ضد
آہ میں ڈھل گئی شکایت بھی
کہہ دیا نا کہ عشق ہے تم سے
اب بھلا دوں ، کوئی ضمانت بھی?
ایک تو دُکھ، تِرے بچھڑنے کا
پھر تِری یاد کی اذیّت بھی
جھوٹی رسموں کی پیروی نہ کرو
چاہے کرنی پڑے بغاوت بھی
کیوں سمجھتے نہیں ہیں آپ حضور
سانس لیتی ہے ایک عورت بھی
روٹی کپڑے کے ساتھ اب سر تاج
چاہیے مجھ کو تھوڑی عزت بھی
نظم کرنا تو کچھ کمال نہیں
شعر کو چاہیے، مہارت بھی
کام کرنے ہیں کچھ مجھے گھر کے
اب مجھے دیجیے اجازت بھی
آپ عزت سے بات کرتے ہیں
مجھ کو کافی ہے یہ عنایت بھی
یہ جو باتیں بنا رہے ہیں سب
بات میں ہو گی کچھ حقیقت بھی
کچھ لہو میں وفا رچی تھی ثبین
کچھ مری ماں کی تھی نصیحت بھی
ثبین سیف