MOJ E SUKHAN

تمام عمر وہ احسان مجھ پہ کرتا رہا

غزل

تمام عمر وہ احسان مجھ پہ کرتا رہا
مری ہی راکھ سے وہ زخم میرا بھرتا رہا

تلاش تا بہ فلک جس کی لے گئی مجھ کو
وہ جب ملا تو مرے بال و پر کترتا رہا

ذرا سی دیر کا کہنے کو ساتھ تھا اس کا
تمام عمر مرے دل میں وہ اترتا رہا

میں اس کی دھن میں نئے راستے پہ جا نکلی
دیار جاں سے مری روز جو گزرتا رہا

وہ دل جو پیار سے جیتا تھا اب یہ حال ہوا
کہ جس نے پیار سے دیکھا اسی سے ڈرتا رہا

عابدہ کرامت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم