MOJ E SUKHAN

تمہیں پھیر لو گے جو ہم سے نگاہیں

غزل

تمہیں پھیر لو گے جو ہم سے نگاہیں
ملیں گی کہاں غم زدوں کو پناہیں

بشر ناپتا ہے ستاروں کی راہیں
اسے لے نہ ڈوبیں یہ پرواز گاہیں

تلاطم سے کب ڈوبتے ہیں سفینے
اگر ڈوبتے دل ڈبونا نہ چاہیں

ٹھہرتی ہیں گل پر نہ شمس و قمر پر
نہ جانے کسے ڈھونڈھتی ہیں نگاہیں

انہیں مل گیا نام دیر و حرم کا
جو انسانیت کی ہیں قربان گاہیں

نہیں کوئی امید ہم کو وفا کی
جفا ہی سہی آپ کچھ تو نباہیں

جنوں ہی یہاں کام آئے تو آئے
بہت پر خطر ہیں محبت کی راہیں

مری کائنات محبت ہے صابرؔ
یہی چند آنسو یہی چند آہیں

صابر ابوہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم