MOJ E SUKHAN

تو جو چاہے تو ترا درد مٹا سکتا ہوں

تو جو چاہے تو ترا درد مٹا سکتا ہوں
تیرا دل تیری ہتھیلی پہ بھی لا سکتا ہوں

اتنا آساں تو نہیں تم کو بھلانا لیکن
ٹھان لوں دل میں تو خود کو بھی بھلا سکتا ہوں

یہ ضروری تو نہیں تم سے ہی میں عشق کروں
جب جہاں چاہوں ہنر اپنا دکھا سکتا ہوں

میری خود ساختہ درویشی تماشہ نہیں ہے
تم کو جب چاہوں تماشہ میں بنا سکتا ہوں

یہ جو خاموشی ہے کمزوری نہ سمجھو اس کو
اسی خاموشی سے میں حشر اُٹھا سکتا ہوں

آنا چاہو تو چلے آؤ مگر دھیان رہے
میں سر بزم تمہیں تم سے ملا سکتا ہوں

میں ضیا باری کا دعویٰ نہیں کرتا لیکن
اک چراغ اپنی گلی میں تو جلا سکتا ہوں

تجھ کو آتا ہے بھلے ہوشربائی کا ہنر
میں اگر چاہوں ترے ہوش اُڑا سکتا ہوں

لذتِ وصل سے سرشار رہا ہوں اتنا
ہجر کو چاہوں میں انصر تو تھکا سکتا ہوں

انصر رشید انصر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم