MOJ E SUKHAN

تُو فیصلۂ ترکِ ملاقات میں گُم ہے

تُو فیصلۂ ترکِ ملاقات میں گُم ہے
بندہ تری دیرینہ عنایات میں گُم ہے

ہم منزلِ بے نام کے راہی ہیں ازل سے
تُو تذکرہِ حسنِ مقامات میں گُم ہے

شادابئ گلشن کو بیاباں نہ بنا دے
وہ شعلۂ بے تاب، جو برسات میں گُم ہے

"ہے گردشِ دوراں کا عناں گیر قلندر”
گُم کردہ روایات، مگر زات میں گُم ہے

منزل ہے بہت دور مگر حسنِ تقرب
واصفؒ ترے قدموں کے نشانات میں گُم ہے​

واصف علی واصفؒ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم