MOJ E SUKHAN

تھک جاتا ہوں روز کے آنے جانے میں

غزل

تھک جاتا ہوں روز کے آنے جانے میں
میرا بستر لگوا دو میخانے میں

اس کے ہاتھ میں پھول ہے مت کہیے کہیے
اس کا ہاتھ ہے پھول کو پھول بنانے میں

میں کب سے موقع کی طاق میں ہوں اس کو
جان من کہہ دوں جانے انجانے میں

آنکھوں میں مت روک مجھے جانا ہے ادھر
یہ رستہ کھلتا ہے جس تہہ خانے میں

لاد نہ اس کے حسن کا اتنا بوجھ چراغؔ
آ جائے گی موچ غزل کے شانے میں

چراغ شرما

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم