MOJ E SUKHAN

تھے مہربان سائے مگر میں نہیں گیا

تھے مہربان سائے مگر میں نہیں گیا
مجھ کو پکارتے تھے شجر، میں نہیں گیا

جاتا بھی کس لیے درِ نخوت پناہ پر
پہنچا ضرور طشت میں سر، میں نہیں گیا

جس پر میں چلنا چاہتا تھا سر کے بل کبھی
پاؤں پڑی وہ راہ گزر، میں نہیں گیا

پہنچا چہار سمت میں اپنی تلاش میں
اک سمت رہ گئی تھی جدھر میں نہیں گیا

جب خوف تھا تو دل میں کشش اس طرف کی تھی
جب ختم ہو گیا میرا ڈر، میں نہیں گیا

ہنگام تھا پڑا ہوا رستوں کے درمیان
جاتا کدھر ؟ ادھر کہ ادھر ؟ میں نہیں گیا

بکتے تھے حرف درہم و دینار کے عوض
واجد امیر لے کے ہنر، میں نہیں گیا

واجد امیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم