MOJ E SUKHAN

تیور بدل گئے کبھی لہجہ بدل گیا

تیور بدل گئے کبھی لہجہ بدل گیا
بدلا جو دل تو خون کا رشتہ بدل گیا

رفتار زندگی کے تغیر کی دیکھیے
جھپکی تھی آنکھ اور نظارہ بدل گیا

سب ہیں سفر میں اور کسی کو خبر نہیں
منزل بدل گئی ہے کہ رستہ بدل گیا

یہ زندگی کی ناؤ کی قسمت کا حال ہے
طوفان سے بچی تو کنارہ بدل گیا

ہم دونوں اپنی اپنی انا پر اڑے رہے
اور اس میں یہ ہوا کہ زمانہ بدل گیا

مجھ کو بتا دیا ہے یہ انجم شناس نے
حق میں جو آپ کے تھا ستارہ بدل گیا

سلمان صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم