تیور بدل گئے کبھی لہجہ بدل گیا
بدلا جو دل تو خون کا رشتہ بدل گیا
رفتار زندگی کے تغیر کی دیکھیے
جھپکی تھی آنکھ اور نظارہ بدل گیا
سب ہیں سفر میں اور کسی کو خبر نہیں
منزل بدل گئی ہے کہ رستہ بدل گیا
یہ زندگی کی ناؤ کی قسمت کا حال ہے
طوفان سے بچی تو کنارہ بدل گیا
ہم دونوں اپنی اپنی انا پر اڑے رہے
اور اس میں یہ ہوا کہ زمانہ بدل گیا
مجھ کو بتا دیا ہے یہ انجم شناس نے
حق میں جو آپ کے تھا ستارہ بدل گیا
سلمان صدیقی