MOJ E SUKHAN

جا بجا تم بیٹھنے اٹھنے لگے جس تس کے پاس

غزل

جا بجا تم بیٹھنے اٹھنے لگے جس تس کے پاس
کون کہتا ہے کہاں کس وقت کس دن کس کے پاس

نام اگر منظور ہو تو یہ ہنر پیدا کرو
امتیاز اخلاق ادب دلجوئیاں مجلس کے پاس

لذتیں دونوں جہانوں کی ہوئیں اس کو نصیب
ماہرو سیمیں بدن غنچہ دہن ہو جس کے پاس

اہل ثروت ہیں جو رکھتے ہیں یہ دولت یاں کہاں
داغ دل ٹکڑے جگر غم درد الم مفلس کے پاس

عشقؔ جاوے کون گھر اس کے بجز منکر نکیر
بے زباں بے گوش بیدل بے سخن بے حس کے پاس

خواجہ رکن الدین عشق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم