جاں بلب تھا غضب کی پیاس سے میں
سیر ہوتا بھی کیا گلاس سے میں
اُس کی خوشبو لپٹ گئی مجھ سے
آج گزرا تھا اُس کے پاس سے میں
ریل کی آخری بجی سیٹی
اور اُلجھا رہا حواس سے میں
مجھ کو گندم کا بوجھ ڈھونا تھا
سوت لیتا بھی کیا کپاس سے میں
جسم چھلنی ہوا ہے اندر سے
ٹھیک دکھتا تو ہوں لباس سے میں
نا اُمیدی کی جب چلے آندھی
باندھ لیتا ہوں دل کو آس سے میں
ہو اجازت تو کاٹ لوں ارشد
پیٹ پالوں گا خشک گھاس سے میں
ارشد محمود ارشد