MOJ E SUKHAN

جس میں کہیں پڑاؤ ہو یہ وہ سفر نہیں

جس میں کہیں پڑاؤ ہو یہ وہ سفر نہیں
ہستی کی رہگزر میں کوئی مستقر نہیں

ہے آپ کی نظر میں مری سوچ مسترد
فرمان آپ کا بھی کوئی معتبر نہیں

پہلے بھی کارواں کے محافظ تھے راہزن
اب بھی بجز غنیم کوئی راہبر نہیں

خوابوں کی کرچیوں کو جو اک بار جوڑ دے
بستی میں ایسا کوئی بھی کیا شیشہ گر نہیں

شوقِ سفر بڑھا مرا کم ہو گئی تھکن
دیکھا جو راستے میں کوئی بھی شجر نہیں

جو دیکھیئے تو اہلِ نظر سے بھرا ہے شہر
اور سوچیئے تو ان میں کوئی دیدہ ور نہیں

ہم در بدر ہیں اپنا ٹھکانہ بتائیں کیا
کیوں پوچھتے ہو اُس کا پتہ جس کا گھر نہیں

مانوس ہو چکے ہیں ضیا تیرگی سے ہم
اب راستے میں ہم کو بھٹکنے کا ڈر نہیں

ضیاء زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم