MOJ E SUKHAN

جس نے جانا جہاں تماشا ہے

غزل

جس نے جانا جہاں تماشا ہے
اس کی ٹھوکر میں یہ زمانہ ہے

بے غرض ہار جیت سے جو ہو
زندگی اس کی فاتحانہ ہے

فکر جو خود گرفت میں رکھے
اس کا انداز شاعرانہ ہے

گرم رکھتا ہے جو خودی اپنی
بے نیازی سے وہ شناسا ہے

دو ہی پل کا ہے کھیل سارا صباؔ
بعد میں خاک سب کو ہونا ہے

ببلس ھور صبا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم