MOJ E SUKHAN

جنون عشق یہ کیا رنگ محفل ہے جہاں میں ہوں

غزل

جنون عشق یہ کیا رنگ محفل ہے جہاں میں ہوں
جو عالم ہے مرا ہی عالم دل ہے جہاں میں ہوں

یہاں تک کار فرما جذب کامل ہے جہاں میں ہوں
کہ فرق ظاہر و باطن بھی مشکل ہے جہاں میں ہوں

سوائے حسن کوئی بھی نہیں ہے مقصد ہستی
سوائے عشق ہر احساس باطل ہے جہاں میں ہوں

جنون غم کا شکوہ کس سے کیجے کس طرح کیجے
تجلی خود شریک عالم دل ہے جہاں میں ہوں

کچھ ایسی بے نیازی سی تلاش چارہ گر سے ہے
یہاں ہر رنج گویا راحت دل ہے جہاں میں ہوں

مجھے طوفان تو اٹھتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں
بظاہر کوئی دریا ہے نہ ساحل ہے جہاں میں ہوں

شعور ہر حقیقت منحصر دیوانگی پر ہے
مگر دیوانگی ایک کار مشکل ہے جہاں میں ہوں

بقا ترغیب دیتی ہے مجھے شوق فراواں کی
فنا منجملہ آثار منزل ہے جہاں میں ہوں

لئے جاتا ہے کوئی کیفؔ ورنہ یہ حقیقت ہے
یہاں تو دو قدم چلنا بھی مشکل ہے جہاں میں ہوں

کیف مرادآبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم