MOJ E SUKHAN

جو رحم کھاتا نہ تھا بستیاں جلاتے ہوئے

غزل

جو رحم کھاتا نہ تھا بستیاں جلاتے ہوئے
وہ رو پڑا ہے مگر اپنا گھر بچاتے ہوئے

کوئی بتائے یہ اُسکی ہے کیسی ہمدردی
ہمارے آنسو بھی پوچھے تو مسکراتے ہوۓ

وہ کیفیت تھی کہ دل ہی نکال کر رکھ دیں
عجب طرح سے پکارا تھا اس نے جاتے ہوۓ

بہت دنوں سے یہ محسوس ہو رہا ہے مجھے
وہ تھک گیا ہے مرا ساتھ اب نبھاتے ہوئے

حقیقتوں سے و ہ واقف تھا اس لیے شاید
بہت ہی رویا مجھے آئینہ دکھاتے ہوۓ

وہ راہِ راست سے خود ہی بھٹک گیا کیسے
کہ جس کی عمر کٹی راستہ بناتے ہوئے

اب اُنکے نام بھی لیوا نہیں زمانے میں
گزر گئے جو یہاں نیکیاں کماتے ہوئے

خدا کا شکر ہے ثابت قدم رہی نصرت
سبھی نے ساتھ نبھایا تھا آزماتے ہوۓ

نصرت عتیق گورکھپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم