MOJ E SUKHAN

جو مجھ میں چھپا میرا گلا گھونٹ رہا ہے

جو مجھ میں چھپا میرا گلا گھونٹ رہا ہے
یا وہ کوئی ابلیس ہے یا میرا خدا ہے

جب سر میں نہیں عشق تو چہرے پہ چمک ہے
یہ نخل خزاں آئی تو شاداب ہوا ہے

کیا میرا زیاں ہے جو مقابل ترے آ جاؤں
یہ امر تو معلوم کہ تو مجھ سے بڑا ہے

میں بندہ و ناچار کہ سیراب نہ ہو پاؤں
اے ظاہر و موجود مرا جسم دعا ہے

ہاں اس کے تعاقب سے مرے دل میں ہے انکار
وہ شخص کسی کو نہ ملے گا نہ ملا ہے

کیوں نور ابد دل میں گزر کر نہیں پاتا
سینے کی سیاہی سے نیا حرف لکھا ہے

فہمیدہ ریاض

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم