MOJ E SUKHAN

جھانکتے لوگ کھلے دروازے

جھانکتے لوگ کھلے دروازے
چاند کا شہر بنے دروازے

کس کی آہٹ کا فسوں طاری ہے
محو ہیں آج بڑے دروازے

بول کے دیں نہ کبھی دیواریں
سر پٹختے ہی رہے دروازے

لوگ محفوظ ہوئے کمروں میں
برف کی زد میں رہے دروازے

کبھی سورج کی کبھی ظلمت کی
مار سہتے ہی رہے دروازے

رات بھر چاندنی ٹکرائی مگر
صبح ہوتے ہی کھلے دروازے

دیکھ وہ شامؔ کی آہٹ ابھری
دیکھ وہ بند ہوئے دروازے

محمود شام

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم