MOJ E SUKHAN

جہان دل میں سناٹا بہت ہے

غزل

جہان دل میں سناٹا بہت ہے
سمندر آج کل پیاسا بہت ہے

یہ مانا وہ شجر سوکھا بہت ہے
مگر اس میں ابھی سایا بہت ہے

فرشتوں میں بھی جس کے تذکرے ہیں
وہ تیرے شہر میں رسوا بہت ہے

بہ ظاہر پر سکوں ہے ساری بستی
مگر اندر سے ہنگاما بہت ہے

اسے اب بھول جانا چاہتا ہوں
کبھی میں نے جسے چاہا بہت ہے

وہ پتھر کیا کسی کے کام آتا
مگر سب نے اسے پوجا بہت ہے

مرا گھر تو اجڑ جائے گا لیکن
تمہارے گھر کو بھی خطرا بہت ہے

مرا دشمن مرے اشعار سن کر
نہ جانے آج کیوں رویا بہت ہے

تابش مہدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم