MOJ E SUKHAN

جہاں میں جہاں جس کو ہم دیکھتے ہیں

جہاں میں جہاں جس کو ہم دیکھتے ہیں
تمہیں کو تمہاری قسم دیکھتے ہیں

طلب گار تیرے بہ چشم حقیقت
تماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیں

برابر ہیں گبرو مسلمان ہم کو
زیادہ کسی کو نہ کم دیکھتے ہیں

تیرے عاشقوں کو نہ دوزخ کا ڈر ہے
نہ حسرت سے سوئے ارم دیکھتے ہیں

طبیبوں نے سمجھا ہے کیا یہ تماشہ
میری نبض کیوں دم بدم دیکھتے ہیں

نہیں بند ہے باب احسان وارثؔ
ہم ان کا برابر کرم دیکھتے ہیں

لڑی ہے کسی گل سے کیا آنکھ اوگھٹؔ
تمہیں مضطر و چشم نم دیکھتے ہیں

اوگھٹ شاہ وارثی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم