MOJ E SUKHAN

جہاں میں فتنے اٹھاتی وبا کا دکھ ہے مجھے

جہاں میں فتنے اٹھاتی وبا کا دکھ ہے مجھے
سروں پہ ناچتی پھرتی قضا کا دکھ ہے مجھے

زمانے بھر کی نگاہوں میں تو مسیحا ہے
کسے خبر کہ تری ہی دوا کا دکھ ہے مجھے

مرے مزاج کے اپنے بھی کچھ تقاضے ہیں
یہ اور بات کہ خلقِ خدا کا دکھ ہے مجھے

بھرا نہیں ہے ابھی زخم بے وفائی کا
اک اور ٹوٹتے عہدِ وفا کا دکھ ہے مجھے

خبر نہیں ہے کہ یہ آگ بجھ بھی پائے گی
دلوں میں حشر اٹھاتی گھٹا کا دکھ ہے مجھے

کسی کو جھوم کے آتی بہار بھائے گی
مگر یہ آگ لگاتی صبا کا دکھ ہے مجھے

وہ جس کو مان تھا بے حد مری سخاوت پر
جو خالی لوٹ گیا اس گدا کا دکھ ہے مجھے

رجب وہ لوٹ تو آیا ہے میت بچپن کا
جو ایک عمر رہا اس خلاء کا دکھ ہے مجھے

رجب چودھری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم