MOJ E SUKHAN

جی چاہے تو شیشہ بن جا جی چاہے پیمانہ بن جا

جی چاہے تو شیشہ بن جا جی چاہے پیمانہ بن جا
شیشہ پیمانہ کیا بننا مے بن جا مے خانہ بن جا

مے بن کر مے خانہ بن کر مستی کا افسانہ بن جا
مستی کا افسانہ بن کر ہستی سے بیگانہ بن جا

ہستی سے بیگانہ ہونا مستی کا افسانہ بننا
اس ہونے سے اس بننے سے اچھا ہے دیوانہ بن جا

دیوانہ بن جانے سے بھی دیوانہ ہونا ہے اچھا
دیوانہ ہونے سے اچھا خاک در جانانہ بن جا

خاک در جانانہ کیا ہے اہل دل کی آنکھ کا سرمہ
شمع کے دل کی ٹھنڈک بن جا نور دل پروانہ بن جا

سیکھ ذھینؔ کے دل سے جلنا کاہے کو ہر شمع پہ جلنا
اپنی آگ میں خود جل جائے تو ایسا پروانہ بن جا

ذہین شاہ تاجی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم