MOJ E SUKHAN

جیسے ہی زینہ بولا تہہ خانے کا

جیسے ہی زینہ بولا تہہ خانے کا
کنڈلی مار کے بیٹھا سانپ خزانے کا

ہم بھی زخم طلب تھے اپنی فطرت میں
وہ بھی کچھ سچا تھا اپنے نشانے کا

راہب اپنی ذات میں شہر آباد کریں
دیر کے باہر پہرہ ہے ویرانے کا

بات کہی اور کہہ کر خود ہی کاٹ بھی دی
یہ بھی اک پیرایہ تھا سمجھانے کا

صبح سویرے شبنم چاٹنے والے پھول
دیکھ لیا خمیازہ پیاس بجھانے کا

بنجر مٹی پر بھی برس اے ابر کرم
خاک کا ہر ذرہ مقروض ہے دانے کا

طالبؔ اس کو پانا تو دشوار نہ تھا
اندیشہ تھا خود اپنے کھو جانے کا

علامہ طالب جوہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم